Ads

Monday, January 29, 2018

What is DNA and how it works..?

ڈی این اے کیا ہے اور کیسے کی جاتی ہے؟
What is DNA and how it works..?

قصور میں زینب اور سات دوسری بچیوں کے قاتل کی گرفتاری ڈی این اے  کے ذریعے ممکن ہوئی۔ اس موقعے پر بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھنا شروع ہو گئے کہ ڈی این اے کے ذریعے کسی شخص کی شناخت کیسے کی جا سکتی ہے؟

ڈی این اے کو سمجھنے کے لیے عام طور پر جو مثال دی جاتی ہے وہ کسی مکان کے بلیو پرنٹ یا نقشے کی ہے۔ جس طرح بلیو پرنٹ کے مطابق گھر تعمیر کیا جاتا ہے، ویسے ہی ڈی این اے کے اندر ہدایات پر عمل کر کے جسم کا پورا ڈھانچہ تعمیر کیا جاتا ہے۔ جیسے ہر مکان کا تعمیر کا نقشہ الگ ہوتا ہے، ویسے ہی ہر انسان کے جسم کی تعمیر کے لیے الگ الگ نقشے ہوتے ہیں۔

اگر آپ کو کسی مکان کا نقشہ مل جائے تو اس کی مدد سے آپ اس گھر کو پہچان سکتے ہیں۔

جسم تعمیر کرنے اور اس کا نظام چلانے کے لیے ڈی این اے کی ہدایات ایک خاص زبان میں درج ہوتی ہیں۔ اس زبان کے حروفِ تہجی صرف چار ہوتے ہیں اور انھیں عام طور پر رومن حروف A, C, T, G کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ ایک انسان کا مجموعی ڈی این اے (جسے 'جینوم' کہا جاتا ہے) تین ارب الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر یہ ساری ہدایات مکمل طور پر لکھی جائیں تو اس سے عام سائز کی تقریباً پانچ ہزار کتابیں بن جائیں گی۔

ڈی این اے کے چار 'حروف' کسی زبان کے حروف کی طرح نہیں، بلکہ دراصل کیمیائی مرکبات ہیں جنھیں
اے، سی، ٹی، جیکا نام دے دیا گیا ہے اور یہ جینوم میں ایک مخصوص ترتیب سے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ جس طرح کسی زبان کے الفاظ کو ایک خاص ترتیب میں لکھنے سے پوری کتاب مرتب ہو جاتی ہے، اس طرح سے ڈی این اے کے ان مرکبات کی مخصوص تکرار سے کسی ایک مخصوص انسان کا جینوم تیار ہو جاتا ہے۔

جیسے ہر انسان کی انگلیوں کے نشان مخصوص ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح ہر انسان کی ڈی این کی کتاب منفرد اور
 مخصوص ہوتی ہے۔

ڈی این اے ٹیسٹنگ میں کیا ٹیسٹ کیا جاتا ہے؟
ڈی این اے کے بنیادی حروف چونکہ کیمیائی مرکبات پر مشتمل ہوتے ہیں، اس لیے لیبارٹری میں کیمیائی طریقوں سے انھیں ٹیسٹ کر کے کسی ملزم کو شناخت کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کو ڈی این اے فنگر پرنٹنگ کہا جاتا ہے۔

اس مقصد کے لیے پہلا مرحلہ تو یہ ہوتا ہے کہ ملزم کے جسم کے کسی بھی حصے سے ڈی این اے کا نمونہ مل جائے۔ یہ نمونہ اس کے بالوں، تھوک، جنسی رطوبت، خون یا جلد کے کسی ٹکڑے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ عمل انتہائی احتیاط سے کیا جاتا ہے کہ اسے کسی اور کا ڈی این اے آلودہ نہ کر دے۔ اگر نمونہ حاصل کرنے والے اہلکار کو چھینک بھی آ جائے تو اس کا ڈی این اے ملزم کے ڈی این اے کے ساتھ شامل ہو جائے گا۔

اس کے بعد ڈی این اے کو صاف کیا جاتا ہے، اور اگر اس کی مقدار کم ہے تو اسے پی سی آر تکنیک کے ذریعے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔

پنجاب فورینسک لیبارٹری کے ایک عہدے دار کے مطابق قصور میں متاثرہ لڑکیوں کے جسم سے ملزم کا ڈی این اے حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ ایک جگہ سے صرف تین سپرم ملے تھے، جب کہ ایک اور لڑکی کے جسم سے صرف تین نینوگرام (ایک گرام کا ایک اربواں حصہ) حاصل ہوا جسے حساس طریقے استعمال کر کے اس قابل بنا دیا گیا کہ اسے ٹیسٹ کیا جا سکے۔

تکرار کی مدد سے شناخت
ڈی این اے کے ان حصوں کو کیمیائی طور پر شناخت کرنا آسان ہوتا ہے جہاں بار بار ایک ہی حرف دہرایا گیا ہو۔ اسے شارٹ ٹینڈم ریپیٹ (STR) کہا جاتا ہے۔ کسی ایک ایس آر ٹی کی مثال کچھ یوں ہو گی:

ATATATATAT

اس مثال میں AT پانچ بار دہرایا گیا ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کرنے والے آلات اس قسم کی تکرار کو آسانی سے پکڑ لیتے ہیں۔ چوں کہ ہر انسان کا ڈی این اے منفرد ہوتا ہے، اس لیے اس کے اندر پائی جانے والی تکراریں بھی منفرد ہوتی ہے۔ عام طور پر چار حروف کی تکرار زیادہ آسانی سے پکڑی جاتی ہے۔

قصور واقعے کی متاثرہ بچیوں کے جسم سے ملنے والے ڈی این اے کا جب ملزم علی عمران کے ڈی این اے سے تقابل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان دونوں قسم کے نمونوں میں ایک ہی قسم کی تکرار ایک جیسے مقامات پر پائی جاتی ہے۔

اگر صرف چند تکراروں کے نمونے آپس میں مل جاتے ہوں تو ایسا اتفاقی طور پر بھی ہو سکتا ہے، لیکن اگر ایک درجن یا اس سے بھی زیادہ بار تکرار ہو بہو ایک جیسی ہو تو ایسے اتفاق کا امکان انتہائی کم ہوتا ہے۔

پولیس کے مطابق علی عمران کے ڈی این اے اور بچیوں کے جسم سے حاصل کیے جانے والے ڈی این اے کے درمیان اتفاقی مماثلت کا امکان ایک کے مقابلے پر 178 کواڈریلین ہے۔ یعنی 178 کے بعد 15 صفر، گویا 178,000,000,000,000,000,000

دوسرے الفاظ میں اگر دنیا میں 178 کواڈریلین انسان موجود ہوں، تو ان میں سے دو کے ڈی این اے کے آپس میں ملنے کا امکان ہو سکتا ہے۔ لیکن چونکہ دنیا کی مجموعی آبادی اس رقم کے مقابلے پر دو کروڑ گنا سے بھی کم ہے اس لیے یہ بات پورے اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ پولیس کو اس کا مطلوب شخص مل گیا ہے۔

*************

1 comments:

Anonymous said...

Informative...!
Weldone

Post a Comment

 
| Bloggerized by - Premium Blogger Themes |